بابا کے نام ایک خط۔۔

مت پوچھو میری بےچینی کی وجہ آج رات ،

وہ جو زندگی پہ اعتبار تھا وہ ٹوٹ گیا آج رات،

میرا اپنے بابا سے کوئی گلا نہیں، نہ ہے کوی شکوہ،

وہ رہنگے میرے ساتھ ہمیشہ، یہ ایک جھوٹ تھا،

کہاں ہو آج تم میری بات کیوں نہیں سُنتے بابا؟

میں ڈرتیی ہوں اندھیرے سے بتی مت بجھاؤں بابا،

سراہنے بیٹھ کے مجھے آج پھر کوئی کہانی سناؤ نہ بابا،

مجھے کھلا کے خود بھوکا سوتے کیوں ہو؟

سارے جہاں کے غم اکیلے اٹھاتے کیوں ہو؟

مجھے ہنسا کے اکیلے میں جاکے روتے کیوں ہو؟

بتاتے مجھے اپنا درد نہیں کہتے بیٹا تم چھوٹی ہو،

خدارا! اتنا درد اکیلے سہہتے کیوں ہو؟

اپنے ہاتھوں سے میرے گال پھر سے سہلاو نہ بابا،

نیند نہین آتی مجھے، آج کوی لوری گا کہ پھر سُلاو نہ بابا،

درد چھپا کے سارے ایسے کیسے مسکراتے ہو،

غیر مشروط محبت کا یہ فن مجھے بھی سکھاؤ نہ بابا،

ماں تمہارے بنا اُداس ہوتی ہے اکثر ،

یو تنہا ہمیں چھور کر نہ جایا کرو بابا،

تمہارے بنا میں کچھ نہیں میری کوئی اوقات نہیں نہ نام ہے،

سایہ اپنا میرے سر پہ بنا کے پھر اپنی شہزادی کا تاج بناؤ نہ بابا،

دنیا میں مجھے لاکے ایسے بیچ رستے نہ چھوڑ کے مجھے یوں جاو بابا،

انگلی پکر کے چلنا سکھایا تھا اب آخری قدم تک میرا ساتھ نبھاؤ نہ بابا۔

8 thoughts on “بابا کے نام ایک خط۔۔

  1. Main pucchna waqt beetein toh
    Kivve langhya si mere bin
    Main raatan jag ke kattiyan
    Kivve nikle si tere din
    Main sajna pher tere lai
    Ve peeda aap jarniya ne

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s